اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے معاون و اعلیٰ مشیر اور شہید قاسم سلیمانی دفاعی علوم و معارف تحقیقی مرکز کے سربراہ میجر جنرل سید یحییٰ رحیم صفوی نے پیر کی صبح ادارہ برائے منصوبہ بندی و بجٹ میں ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، 12 روزہ جنگ اور 40 روزہ جنگ کے شہداء اور اسلامی انقلاب کے شہید رہبر کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دشمن کے مقابلے میں ڈٹ کر ملک کا دفاع کریں گے اور بالآخر پائیدار ترقی اور پیشرفت کی بنیاد رکھیں گے۔
رحیم صفوی نے ایران اور اس کے دشمنوں کے اہداف اور حکمت عملی کے درمیان موجود تضاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران امریکہ، یورپ، سابق سوویت یونین اور خطے کے ممالک نے اسٹریٹجک سطح پر صدام حکومت کی حمایت کی، جبکہ بعثی دشمن ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا تختہ الٹنے اور اروندرود پر قبضہ کرنے کے درپے تھا، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور بعثی حکومت کے درمیان جنگ کے دوران عرب ممالک نے صدام کو 85 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی اور اسے کسی بھی قسم کی رسد، فوجی سازوسامان اور مالی مدد فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بعثی دشمن نے امریکہ، یورپی ممالک اور خطے کے ملکوں کی مدد سے ایران کے خلاف زمینی حملے کیے اور کئی شہروں پر قبضہ کرلیا، تاہم ایران کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں رفتہ رفتہ تمام شہر آزاد کرا لیے گئے۔
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے معاون و اعلیٰ مشیر نے یاد دلایا کہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز میں ہماری صورتحال اچھی نہیں تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حالات بہتر ہوتے گئے۔ آج بھی فوجی اعتبار سے صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور چین و روس نے سیاسی میدان میں ایران کی مدد کی ہے، جبکہ ایران کے بارے میں یورپ، امریکہ اور خطے کے ممالک کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
امریکی فوجی اڈوں کو بھاری نقصان
رحیم صفوی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں رمضان جنگ کے دوران امریکہ کو پہنچنے والے بھاری نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک، بشمول قطر، کویت اور بحرین میں موجود امریکہ کے بیشتر فوجی اڈے ایرانی میزائل حملوں میں تباہ ہوگئے یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔
شہید قاسم سلیمانی دفاعی علوم و معارف تحقیقی مرکز کے سربراہ نے کہا کہ آج کی جنگ ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ ہے۔ آج جنگ فضائی طاقت اور دور سے حملہ کرنے کی صلاحیت پر مبنی ہے، جس میں دشمن نے اپنی فضائیہ اور ٹاما ہاک میزائلوں کے ذریعے ایران پر حملہ کیا، تاہم ایران نے بھی میزائل حملوں کے ذریعے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
انہوں نے ایران پر امریکہ اور صیہونی ریاست کے حملے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اسلامی جمہوری نظام کا تختہ الٹنے، محور مزاحمت کو تباہ کرنے، مغربی ایشیا کے خطے پر غلبہ حاصل کرنے، آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل پر کنٹرول حاصل کرنے کے مقصد سے ایران پر حملہ کیا، لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران میں وینزویلا کا ماڈل نافذ کرنا چاہتے تھے، لیکن اس مقصد میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ لہٰذا واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنگ میں شکست کھا چکے ہیں۔
رحیم صفوی نے کہا کہ رمضان جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں کا انتظام سینٹ کام کے پاس تھا۔ سینٹ کام ابتدا میں قطر میں قائم تھا، پھر اسے اردن منتقل کیا گیا اور اب مقبوضہ فلسطین میں موجود ہے۔
آپ کا تبصرہ